جمعرات 25 جون 2026 - 12:00
حضرت عباس علمدار کے مصائب، رہبرِ شہید انقلاب کی زبانی

حوزہ/ روز تاسوعا 9 محرم الحرام اور ایامِ عزائے سیدالشہداء علیہ السلام کی مناسبت سے رہبرِ شہید انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ایک پراثر بیان کو دوبارہ منظرِ عام پر لایا گیا ہے، جس میں انہوں نے حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی شہادت اور وفاداری کے ایک اہم پہلو کو بیان کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روز تاسوعا 9 محرم الحرام اور ایامِ عزائے سیدالشہداء علیہ السلام کی مناسبت سے رہبرِ شہید انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ایک پراثر بیان کو دوبارہ منظرِ عام پر لایا گیا ہے، جس میں انہوں نے حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی شہادت اور وفاداری کے ایک اہم پہلو کو بیان کیا ہے۔

رہبرِ شہید انقلاب نے سال 2000ء کو تہران کے نمازِ جمعہ کے خطبے میں حضرت عباسؑ کے فرات تک پہنچنے کے واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مشہور روایت یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے حضرت عباسؑ کو پانی لانے کے لیے بھیجا تھا، لیکن شیخ مفید کی ارشاد اور ابن طاؤوس کی لہوف جیسی معتبر کتابوں میں مذکور ہے کہ شدید پیاس کے عالم میں امام حسین علیہ السلام خود بھی اپنے بھائی حضرت عباسؑ کے ساتھ پانی کی تلاش میں فرات کی جانب روانہ ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں بہادر بھائی دشمن کے ہجوم کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے۔ ایک طرف تقریباً ساٹھ سالہ امام حسینؑ تھے، جن کی شجاعت بے مثال تھی، اور دوسری طرف جوان حضرت عباسؑ تھے، جنہیں جرأت اور وفاداری کا پیکر سمجھا جاتا ہے۔ دونوں نے دوش بدوش اور کبھی پشت بہ پشت لڑتے ہوئے فرات تک پہنچنے کی کوشش کی تاکہ خیموں میں موجود بچوں اور خواتین کے لیے پانی لا سکیں۔

آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق شدید معرکے کے دوران دشمن نے دونوں بھائیوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ حضرت عباسؑ فرات کے قریب پہنچ گئے اور مشکیزہ پانی سے بھر لیا۔ اس موقع پر ایک پیاسا انسان باآسانی پانی پی سکتا تھا، لیکن حضرت عباسؑ نے وفاداری اور ایثار کی ایسی مثال قائم کی جو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔

انہوں نے بیان کیا کہ جب حضرت عباسؑ نے پانی اٹھایا تو فوراً انہیں امام حسین علیہ السلام کے خشک لب، خیموں میں موجود بچوں کی "العطش" کی صدائیں اور حضرت علی اصغر علیہ السلام کی پیاس یاد آگئی۔ چنانچہ انہوں نے پانی پینے کے بجائے اسے واپس فرات میں انڈیل دیا اور مشکیزہ لے کر خیموں کی جانب روانہ ہوگئے۔

رہبرِ شہید انقلاب نے کہا کہ واپسی کے راستے میں دشمن نے حضرت عباسؑ کا محاصرہ کر لیا۔ اسی دوران امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی کی درد بھری صدا سنی: "یا أخا أدرک أخاک" "بھائی! اپنے بھائی کی مدد کو پہنچو۔"

یہ واقعہ حضرت عباسؑ کی بے مثال وفاداری، ایثار اور امامِ وقت سے عشق و وابستگی کی روشن ترین مثالوں میں شمار ہوتا ہے، جو آج بھی اہلِ ایمان کے لیے صبر، قربانی اور وفاداری کا درس ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha